بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اخبار ساوتھ چائنا مارننگ پوسٹ نے اسلامی انقلاب کے کے رہبر معظم حضرت آیت اللہ امام شہید سید علی خامنہ ای کی شاندار الوداعی تقریب کو کوریج دیتے ہوئے لکھا کہ ایران کے امام شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تشییع کی رسم بروز ہفتہ علی الصبح باضابطہ طور پر شروع ہوئی۔
ہانگ کانگ سے چھپنے والے اس اخبار نے لکھا کہ اس واقعے نے ہزاروں افراد کو اپنی طرف متوجہ کیا اور یہ "اسلامی جمہوریہ کے دشمنوں کے سامنے طاقت کا مظاہرہ" ہے۔
اخبار نے ایرانی حکام کے حوالے سے لکھا کہ توقع ہے کہ صرف تہران میں اگلے تین دنوں کے دوران ڈیڑھ سے دو کروڑ افراد اس عظیم شخصیت کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے حاضر ہوں گے جنہوں نے ساڑھے تین دہائیوں تک ایران کی قیادت کی۔

اس اخبار نے تقریب میں موجود غیر ملکی نامہ نگاروں کے مشاہدات کا بھی حوالہ دیا اور لکھا کہ فرانس پریس کے نامہ نگار نے موقع پر دیکھا کہ ہزاروں سوگواروں سرخ جھنڈے ـ جو انتقام کی علامت ہیں، ـ ہاتھوں میں لئے تہران کی بڑی مصلیٰ کے صحن میں جمع ہوئے امام شہید کے تابوت کے داخلے کا انتظار کرتے رہے۔ "مرگ بر امریکہ" اور " ، انتقام" کے نعرے موقع پر گونج اٹھے۔

ساوتھ چائنا مارننگ پوسٹ نے حاضرین کے حوالے سے لکھا: یونیورسٹی پروفیسر 37 سالہ رضا نے کہا: "ہم تشییع میں آئے ہیں کیونکہ ہم نے رہبر معظم سے وعدہ کیا تھا کہ ہم جان کی بازی لگا کر ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ ہم نے طویل عرصے سے نعرہ لگایا تھا کہ ہم اپنی جانیں رہبر پر قربان کریں گے، لیکن یہ ہمارے رہبر تھے جنہوں نے اپنی جان ہم پر قربان کر دی۔"
فوڈ پروسیسنگ فیکٹری کے 43 سالہ کارکن جواد اکبری، نے بھی کہا: "مجھے کبھی موقع نہیں ملا کہ رہبر معظم کو قریب سے دیکھ سکوں اور مجھے افسوس ہے۔ آج میں ان سے آخری وداع کے لئے آیا ہوں۔"

اس چینی میڈیا نے ایک سوگوار خاتون سمیرا حامدی کے حوالے سے بھی لکھا: "ہم اپنے رہبر کے ساتھ آخری وداع کرنا چاہتے ہیں، اسی لئے اس طرح کا انتظار کرنا ہمارے لئے نہ تکلیف دہ ہے اور نہ ہی مشکل۔"
اس رپورٹ کے مطابق، فرانس پریس کے نامہ نگار نے دیکھا کہ سوگوار لوگ کئی کلومیٹر پیدل چل کر تشییع کے مقام تک پہنچ رہے ہیں۔

اخبار نے ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے بیانات کا بھی حوالہ دیا جنہوں نے واضح کیا تھا کہ "قوم کے انتقام کے نعروں کو پوری دنیا کے کانوں میں گونجنا چاہئے۔"
اخبار نے آخر میں ایران کے امام شہید اور ان کے اہل خانہ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے بین الاقوامی مہمانوں کی موجودگی کا بھی حوالہ دیا جن میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، روس کے سابق صدر اور اس ملک کی سکیورٹی کونسل کے موجودہ نائب دیمتری میدویدیف اور دیگر بین الاقوامی شخصیات شامل ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ